آج تم یاد بے حساب آیے (Aj Tum Yad Be Hisab Aye)

آج تم یاد بے حساب آیے (Aj Tum Yad Be Hisab Aye)

فیض احمد فیض آج تم یاد بے حساب آیے آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے اس کے بعد آئے جو عذاب آئے بام مینا سے ماہتاب اترے دست ساقی میں آفتاب آئے ہر رگ خوں میں پھر چراغاں ہو سامنے پھر وہ بے نقاب آئے عمر کے ہر ورق پہ دل کی نظر تیری مہر و وفا کے باب آئے کر رہا تھا غم جہاں کا حساب آج...

ایسی باتیں کہاں سے لاتے ہو

ایسی باتیں کہاں سے لاتے ہو اْس نے پوچھا کہ ان ستاروں کو کون تکتا ہے رات دیر تلک میں یہ بولا کہ ایک شاعر ہے وہ یہ بولی کہ تنہا ، تم بھی نا! ان ستاروں سے کیا ملا تم کو؟ مجھ پہ کیوں شاعری نہیں کرتے؟ میں یہ بولا کہ ان ستاروں سے ایک گہرا مرا تعلق ہے میری آنکھوں میں...

مجھے تم سے محبت ھے

مجھے تم سے محبت ھے ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﻣﺎﮨﺮ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺎ ﻣﺎﮨﺮ ﻧﮧ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻓﮑﺮ ﺍﻓﻼﻃﻮں ﻧﮧ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﺖ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺣﺴﺮﺕ ﮨﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﻭ ﺑﺮﻭ ﺁﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﮞ ﺑﺎ ﻭﺿﻮ ﺁﮐﺮ ﮔﻮﺍﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮔﮕﻦ ﮐﮯ ﺳﺐ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻓﻘﻂ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ھے مجھے...

مجھے اُس شخص سے اتنی محبت ہے

مجھے اُس شخص سے اتنی محبت ہے مجھے اُس شخص سے اتنی محبت ہے کہ جیسے سیپ کو بارش کی بوندوں سے کہ جیسے چاند کو سورج کی کرنوں سے کہ جیسے تتلیوں کو پھول کی رنگت لبھاتی ہے کہ جیسے جگنوؤں کو رات آنچل میں سجاتی ہے کہ جیسے موج ساحل کیلئے پل پل ترستی ہے کہ جیسے پھول کی خوشبو ہوا...

تم محبت کی بات کرتے ہو

تم محبت کی بات کرتے ہو یہاں زہر خالص نہیں ملتا تم محبت کی بات کرتے ہو   قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو……. کہیں تو بہر خدا آج زکر یار چلے………..   چپ چاپ گزار دیں گے …….. تیرے بن یہ زندگی لوگوں کو سیکھا دیں گے محبت...

درد محسوس کرو

درد محسوس کرو   میں تو یہ جانتا ہوں کہ جس شب مجھے چھوڑ کر تم گئے آسمانوں سے شعلہ نکلتا رہا چاند جلتا رہا ————————————————————– میرے...