جسم چھونے دے تو خراب، ہاتھ جھٹک دے تب بھی بُری ۔۔۔۔۔

پاس سے گزر جائے تو سیٹی مار کے چھیڑو، اکیلی دکھائی دے تو ڈورے ڈالو۔۔۔

فون نمبر مل جائے تو دوستوں میں بانٹو کہ کسی کا کام تو ہو جائے گا۔۔۔۔”سپر مال ہے یار” ہنسی تو پھنسی “گندی عورت”۔۔

ڈرائیور ہو تو بس، ویگن، کار میں لیڈیز سیٹ کے بالکل سامنے اپنا موبائل نمبر لکھو، کوئی ایک بھی پھنسی تو سمجھو قسمت کا تالا “کُھل جا سم سم”

پبلک سروس گاڑی میں بیٹھی ہو تو اس کے چہرے پہ شیشہ / “سائیڈ مرر” فٹ کر کے میلودے دانت نکال کے تاڑنا شروع کر دو

پبلک سروس باتھ روم میں بیچاریوں کے نمبر لکھیں ہم… “اگر آپ کو مال چاہے تو اس نمبر پر کال کیجیے” لوگوں کی عورتیں مال اور اپنی عورت ہماری عزت”؟

جائیداد سے حصہ مانگے تو مار دو، پاک کتاب سے نکاح کروا دو یا بے دخل کر دو

بیٹے کی شادی کرنی ہے چاند جیسی خوبصورت، کماوُ، تعلیم یافتہ، سُگھڑ، بے داغ اور تمام نسوانی امتحانات پاس شدہ بہو چاہئے۔۔۔ بیٹا شراب و چرس کے نشے میں دھت چاہئے کتنے میڈیکل فیل کر چکا ہو

کھانا پکے تو اچھا کھانا مرد کا جبکہ بچا کھُچا عورت کا، پانی کی گاگر عورت لائے اور مرد اس سے نہائے، لباس پہ تنقید، سر ننگا باہر نکل گئی تو “گندی عورت”

عورت کی نسوانی خواہشات کیا ہیں، اس سے کوئی سروکار نہیں، میاں جی باہر جتنا منہ مار کہ آئیں نو پرابلم جی، لیکن اگر بیوی کسی سے بات کرتے ہوئے دیکھی گی تو طلاق دے دو اسے”گندی عورت”

ننگے جسم کا للچائی نظروں سے طواف کرنے والا مرد پارسا اور جس کا سر ننگا ہو گیا وہ “گندی عورت”

کسی فیکٹری یا کارخانے سے چھوٹی موٹی تنخواہ ملنے کے دوران سیٹھ مسائل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عزت تارتار کردے تو وہ خود نہا دہو کر پاک پوتر، لیکن ساری زندگی کےلیے بن گئی بیچاری”گندی عورت”

جنازہ پڑھے تو بھی خراب، مزار پہ دھمال ڈالے تب بھی بری عبادت گاہوں میں جانے کی پابندی

والدین کا گھر چھوڑ کے آئے، نسوانی بیماریوں کا بوجھ اٹھائے، بچے پالے، گھر سمبھالے، تھوڑی سی بگڑی تو “گندی عورت

بار میں ہم سب کو انٹرٹین کرے تو بھی خراب، کوٹھے پہ بیٹھ جائے تو گشتی. جاب کرے تو بھی پورا دن عزت کی سلامتی کےلئے دعائیں مانگتی رہے

گانا گائے تو گائیکہ، ناچے تو نائیکہ/ کنجری، دھندے پہ بٹھائے مرد اور دهنده کرنے والی کہلائے گشتی “گندی عورت”

چپ رہے تو اللہ میاں کی گائے، بولے تو زبان دراز…موٹر سائیکل چلائے تو بھی بری، گاڑی چلائے تو بھی”گندی عورت”

محبت کا حق مانگے تو کمینی، گھر میں بیٹھی بوڑھی ہو جائے تو کسی کو پسند نہ آئی اور اگر کسی کو پسند کر لے تو خاندان کی ناک کٹوا گئی ۔۔”گندی عورت”۔۔

پہلے والی گھر میں بیٹھی رہے، کسی بھولی بالی دوسری کو بڑے بڑے سپنے دکھاو اسے بھی لے آو۔۔۔۔ بگڑ جائے تو “گندی عورت”۔۔

بیوی گھر میں بیٹھی ہو اور خود مجرا دیکھنے جاو، رقص و سرور کی شبانہ محفلیں سجاو

مرد مر جائے تو اس کی یاد کو سینے سے لگائے بچوں کو پالے، لیکن اگر عورت مر جائے تو جلدی سے دوسری لاو

فیسبک پہ سر کٹی فوٹو دکھائی دے تو کمنٹس میں تعریفیں ہم کرتے ہیں، اس کے نام کی جعلی آئی ڈی بنا کہ اسے بدنام کریں ہم، واہ کیا “مال” ہے جیسے جاہلانہ کمنٹس ہم پاس کرتے ہیں

اچھی تب ہی کہلائے گی اگر کما کے کھلاتی رہے، بھینس چراتی رہے، گھاس کاٹتی رہے اور گھوبر صاف کرتی رہے، گھر کا کام کاج کرتی رہے، باندی بن کے مردانہ حاجتیں پوری کرے اور ہر سال بعد ایک عدد ننھا منُا سا بیٹا جنتی رہے، کیونکہ بیٹی پیدا ہونے سے ہماری ناک جو کٹ جاتی ہے۔

قصور نہ مذہب کا ہے، نہ عورت کا بلکہ میرے مذہب نے تو عورتوں کے حقوق کا اتنا درس دیا ہیکہ ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے
قصور اِس مردانہ معاشرے کا ہے جس میں ایک عورت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں گھُٹ گھٹ کے جیتی ہے

میں خود دنیا میں گوشت پوست کی بنی ایک بیوی کے حقوق پورے نہیں کر سکتا، لیکن جنت میں مشک، عنبر اور زعفران سے بنی بہتر لڑکیوں کی لالچ سمائی ہے

آخری بات میں فلپائین یا یورپ کے کسی ملک کی طرح کی آزادی کا نہ کبھی حمایتی تھا اور نہ رہوں گا، بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عورت کو آزادی بعد میں دیتے ہیں، آئیں پہلے اپنے من کی پلیدی اور گند سے تو چھٹکارا پاتے ہیں