22 جون 1941 کی فیصلہ کن صبح طلوع ہوئی۔ جرمن فوج کے کمانڈرز ایک خفیہ مقام پر ہٹلر کے سامنے خاموش اور سر جھکائے کھڑے ہیں۔ ایک وسیع میز کی دوسری طرف ہٹلر کرسی پر بیٹھا کسی گہری سوچ میں مگن ہے۔ میز پر سوویت یونین کا نقشہ پھیلا ہے۔ کمرے میں بلا کی خاموشی۔ جرنیل خوف سے کپکپا رہے ہیں اور ہٹلر کے بولنے کے منتظر ہیں۔ جرمنی فرانس پر قبضہ کرچکاہے۔ یورپ میں اب کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ہٹلر سمندر عبور کر کے برطانیہ جیسے حقیر جزیرے پر حملہ کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ آج جنگ کے نئے موڑ کا فیصلہ ہونا ہے۔ کچھ دیر بعد ہٹلر نے بولنا شروع کیا؛
مشرق میں ہمارا عظیم دشمن سٹالن ابھی باقی ہے۔ سوویت یونین پر حملہ کرکے اسے کچل دو اور پورا ملک غلام بنا لو۔ میں کوئی تاخیر برداشت نہیں کروں گا۔
کس کی جرات تھی کہ ہٹلر کے پلان سے اختلاف کرتا۔ کمرے میں دوبارہ خاموشی چھا گئی۔ اس سے پہلے کہ کوئی جرنیل ‘یس‘ کہتا اچانک کمرے کا بڑا دروازہ کھلا اور ایک شخص اندر داخل ہو کر ان کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ ابھی یہ لوگ اس نووارد کو دیکھ ہی رہے تھے کہ اس نے غصے بھری آواز میں چلانا شروع کیا؛
تم کبھی روس پر قبضہ نہیں کرسکتے۔ تمہارا غرور تمہیں تباہ کرے گا۔ نپولین بھی یہی غلطی کرچکا ہے۔ تمہاری فوج روس کے موسم کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اپنی تباہی کے لیے تیار رہو۔
اتنا کہہ کر وہ شخص دوبارہ باہر نکل گیا۔ حیرت سے ہٹلر کا مزاج بگڑ چکا تھا۔ اس نے گرج کر کہا ؛ کون تھا یہ شخص؟
ایک جرنیل نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے اور تھوک نگل کر منمناتی آواز میں کہا؛
فیورر (سر) : یہ رؤف کلاسرا تھے۔ ان کا تعلق لیّہ سے ہے۔
۔