طوائف ۔۔۔۔
جنسی عمل سے فارغ ہوکر وہ آئینے کے سامنے اپنے بکھرے بالوں کو سنوارنے کے لیئے کھڑی تھی کہ اچانک..!!

پیچھے سے ایک شرافت کے پردے میں لپٹی آواز گونجی ..!

تم اپنا جسم کیوں بیچتی ہو ؟؟!!
طوائف نے ہنستے ہوئے جواب دیا
“صاحب”

‎ہم ہی وہ بکریاں ہیں جو تمہارے اندر میں چھپے وحشی درندے کو اپنی جسم کا گوشت پیش کرکے اس کی بھوک مٹاتی ہیں ۔۔

ورنہ تمہاری آنکھیں تو خون کے رشتوں والی چھاتیوں میں گڑی ہوتی ہیں ۔۔۔