قوم عاد ایک عرب قوم، جو جزیرۃ العرب کے جنوب میں زندگی گزارتی تھی۔ یہ “عاد بن عوص” کی اولاد تھے اور اپنے قبیلے کا نام اپنے اجداد کے نام پر رکھا ہے۔ اس قوم والوں کے جسم صحت مند تھے اور ان کے پاس بہت زیادہ نعمتیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں توحید کی دعوت دینے کے لئے ان کے پاس حضرت ہود علیہ السلام کو بھیجا۔ اس قوم کے اکثر لوگوں نے حضرت ہودعلیہ السلام کی دعوت کو قبول نہیں کیا اور عذاب الہٰی میں گرفتار ہوئے۔

نام اور زمان
قوم عاد، عرب قوم، عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح کے فرزند جنہوں نے اپنے قبیلے کا نام اپنے اجداد کے نام پر رکھا تھا۔ قرآن کریم کے مطابق قوم عاد، قوم نوح کے بعد تھی۔قرآن کریم میں اس کے لئے “عاد اولیٰ” کی تعبیر بھی استعمال ہوئی ہے: “وَ أَنَّهُ أَهْلَكَ عاداً الْأُولى‏” ترجمہ: اور وہی ہے جس نے پہلی قوم عاد کو ہلاک کیا۔ “عاد اولیٰ” وہی حضرت ہودعلیہ السلام کی قوم تھی۔ جو حضرت نوح کی قوم سے پہلے اور حضرت ثمود کی قوم کے بعد تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسری عاد بھی تھی، اور بعض مفسرین نے قوم ثمود کو دوسری عاد کہا ہے۔

محل زندگی
قرآن کریم نے اس قوم کے رہنے کی جگہ “احقاف” کہی ہے: “وَ اذْكُرْ أَخا عادٍ إِذْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ بِالْأَحْقاف” ترجمہ: قوم عاد کے بھائی کو یاد کر، جب اس نے اپنی قوم کو (وادی) اعراف میں ڈرایا۔ احقاف کے معنی وہ چھوٹے چھوٹے پتھر جو صحرا و ریگستان میں ہوا کی وجہ سے اڑتے ہیں، اور قوم عاد کی سرزمین کو اس لئے “احقاف” کہتے تھے کیونکہ وہ اس طرح کی ریگستانی زمین تھی۔ مفسرین نے جزیرۃ العرب کے جنوب میں واقع زمین کو احقاف کہا ہے۔ البتہ اس کے اصلی جگہ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے. علامہ طبرسی معتقد ہیں کہ یمن اور عمان کے درمیان والی سرزمین، احقاف ہے۔ جو عصر حاضر میں ایک ریگستان ہے۔سورہ احقاف کہ جس کا مقصد مشرکین کو عذاب علیم سے آگاہ کرنا ہے، اس لئے اس سورہ میں قوم عاد کی کہانی کے ساتھ ہی مشرکین جو عذاب میں گرفتار ہوئے ان کا ذکر کیا ہے

ظاہری نشانیاں
قرآن کریم نے قوم عاد کی ظاہری نشانیوں کے بارے میں کہا ہے کہ ان کے قد کجھور کے درخت کی طرح لمبے، اور بہت صحت مند اور بھاری جسم کے مالک تھے۔ امام باقر رضی اللہ عنہ نے قوم عاد کے بارے میں فرمایا ہے: “وہ کجھور کے درخت کی طرح اونچے قد کے مالک اور پہاڑیوں کو توڑ سکتے تھے” امام صادق رضی اللہ عنہ نے بھی ان کے قد کو کجھور کے درخت سے شباہت دی ہے۔ ایک اور مآخذ میں بھی کہا گیا ہے کہ ان کے قد بہت اونچے تھے۔ شیخ طوسی نے کتاب التبیان میں، ان اقوال کے بارے میں خبر دی ہے۔ روایات میں بیان ہوا ہے کہ ان میں سے سب سے اونچے قد والے آدمی کی قامت ١٠٠ ذراع(گز)اور سب سے چھوٹے کی ٧٠ ذراع(گز) تھی۔ ان مطالب میں بھی بہت اختلاف پایا جاتا ہے مثال کے طور پر ایک قول کے مطابق یہ ١٢ ذراع(گز) یعنی تقریباً ٦ میٹر قد کے مالک تھے۔

تہذیب اور زندگی
بعض مفسرین کے عقیدے کے مطابق، قوم عاد کے متعلق قرآن کی آیات کے ظاہر سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ اس قوم کی اپنی ایک تہذیب تھی اور ترقی یافتہ افراد تھے، اور اسی طرح ان کے شہر آباد اور ان کی زمینیں کجھور کے درختوں، باغوں سے بھری ہوئی ہوتیں۔ سورہ فجر کی آیت ٨ میں ان کے ایک شہر کے بارے میں آیا ہے:”الَّتِی لَمْ یخْلَقْ مِثْلُها فِی الْبِلادِ” ترجمہ: کسی سرزمین میں، اس جیسا شہر نہیں بنایا گیا۔ قوم عاد کجھور کے درختوں کے مالک، اور کھیتی باڑی کرنے والے تھے اور انہوں نے اپنے لئے پتھروں سے مضبوط بڑے گھر بنائے ہوئے تھے۔

عقیدے اور عمل
قوم عاد متعدد خداؤں کی پرستش کرتے تھے، وہ اپنی مشغولیت کے لئے ہر جگہ پر اپنے الگ بت بنا لیتے تھے اور زمین کے نیچے پانی ذخیرہ کرنے لئے سرداب بناتے اس امید پر کہ ہمیشہ اسں دنیا میں رہنا ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام ان کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے۔ قرآن نے ہود علیہ السلام کے لئے قوم عاد کے بھائی کی تعبیر استعمال کی ہے۔ اس تعبیر کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام قوم عاد سے تھے۔ ممکن ہے قوم عاد کے لئے حضرت ہود علیہ السلام کے علاوہ دوسرے پیغمبر بھی آئے جو حضرت ہود علیہ السلام سے پہلے اور حضرت نوح علیہ السلام کے بعد مبعوث ہوئے ہوں لیکن قرآن کریم نے ان کے نام ذکر نہ کئے ہوں لیکن آیات کی ترتیب اس امکان کے ساتھ مساعد نہیں ہے۔

مفسرین معتقد ہیں کہ اس آیت “وَ اتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ” سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ قوم عاد تین ناپسند خصوصیات کی حامل تھی، آیات الہی کا انکار، پیغمبروں کی نافرمانی اور جابر حکمران کی اطاعت کرنا۔ فی الواقع وہ ہر جابر اور سخت گیر حکمران کی پیروی کرتے تھے اور ان کے فرمان پر عمل کرتے تھے اور اسی چیز نے ان کو حضرت ہود علیہ السلام کی پیروی اور اطاعت سے روک لیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ احقاف میں قوم عاد کی توصیف اس طرح سے کی ہے: “وَ أُتْبِعُوا فِی هذِهِ الدُّنْیا لَعْنَةً وَ یوْمَ الْقِیامَةِ” یعنی ان تین بری خصلتوں کی وجہ سے، اس دنیا اور قیامت میں لعنت ان کے شامل حال ہوئی اور خدا کی رحمت سے دور ہوئے، اس لعنت کے معنی، وہی عذاب تھا جس نے ان کا اسقدر پیچھا کیا کہ آخر میں ان کو ہلاک کر دیا۔

عذاب الہیٰ
قرآن کریم نے متعدد آیات کے ذیل میں حضرت ہود علیہ السلام اور قوم عاد کے درمیان کی گئی گفتگو کو نقل کیا ہے۔ قوم عاد کو خشک سالی کا سامنا ہوا اور کافی مدت تک بارش نہ آئی۔ حضرت ہود علیہ السلام نے ان کو وعدہ دیا کہ اگر توبہ کریں گے تو خشک سالی ختم ہو جائے گی اور حتی کہ انکی نعمات میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس کے باوجود قوم عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت کو قبول نہ کیا۔

عاد کے لوگوں نے دور سے آسمان پر ایک بڑا بادل دیکھا اور انہوں نے سمجھا کہ بارش آنے والی ہے حالانکہ یہ عذاب والا بادل تھا۔آخر سات دن اور سات رات مسلسل قوم عاد پر عذاب نازل ہوا۔

قوم عاد کی ہلاکت کے بعد، حضرت ہود علیہ السلام دوسرے مومنوں کے ہمراہ اپنی سرزمین کو ترک کر کے مکہ چلے گئے۔