مائیک کے سامنے بیٹھا شخص حاضرین محفل کی طرف سے کیے گئے سوالات کے جوابات نہایت میٹھے اور سلجھے ھوئے انداز میں دے رہا تھا
مجھے ساتھ لانے والے نے میری طرف بھی کاغذ و قلم بڑھا دیا اور اصرار کیا سوال لکھنے کے لیے
میں نے لکھا۔
سوال: آپ کا دعوی کہ آپ مسلمان ھیں تو پھر مرزا غلام قادیانی کو پیغمبر کیوں مانتے ھیں ؟

میں نے کاغذ اس کی طرف بڑھا دیا جسے اس نے بنا پڑھے فولڈ کر کے آگے بڑھا دیا یوں مختلف ہاتھوں سے ھوتا ھوا کاغذ مقرر صاحب تک پہنچ گیا

سوال کے نیچے نام لکھنے کی ممانعت تھی ۔۔۔ باری آنے پر سوال بآواز بلند پڑھا گیا اور مسکرا کر شائستگی سے جواب ملا

جواب: ہم مرزا غلام احمد کو پیغمبر نہیں کہتے بلکے پیامبر کہتے ھیں اور پیامبر کا مطلب پیغام کو آگے پہنچانے والا ۔۔۔ یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو ہی مرزا غلام احمد نے آگے پہنچایا

مجھ سمیت یہاں آئے تمام کم عمر لڑکے حیران ۔۔۔ کہ باہر کچھ سنتے ۔۔۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی دوسرا ۔۔۔ (تب دین کے معاملے میں زیادہ آگاہی نا تھی)
اب کے میں نے خود کاغذ و قلم مانگا اور لکھا

سوال: بقول آپ کے آپ بھی ہماری طرح مسلمان ھیں اور حصرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ھیں تو پھر آپ لوگ خود کو احمدی کیوں کہتے ھیں یا باقی تمام مسلمان آپ لوگوں کو قادیانی کیوں کہتے ھیں ؟

تہہ شدہ کاغذ اسی طرح گھومتا گھماتا مقرر صاحب تک پہنچا ۔۔۔ باری آنے پر سوال پڑھا گیا اور اسی طرح بنا ماتھے پہ بل لائے نہایت خوش اخلاقی سے مسکراتے ھوئے جواب ملا

جواب: جی بلکل ہم لوگ بھی عام مسلمانوں کی طرح مسلمان ھیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ھیں اور جس طرح مسلمانوں میں کئ فرقے ھیں اسی طرح ہمارا بھی یہ ایک فرقہ ھے احمدی ۔۔۔

سوال و جواب کے بعد کھانے کا انتظام بھی تھا کم و بیش سو کے لگ بھگ شرکاء ھوں گے جن میں ایک میں، میرا مسلمان دوست اور ہمیں یہاں لانے والے ہمارے دو قادیانی دوست بھی شامل تھے
یہ روئیداد اگرچہ برسوں پرانی ھے لیکن بلکل حقیقی ھے اسلام آباد کے پوش سیکٹر جی سیون میں قادیانیوں نے ایک کافی بڑی کوٹھی میں اپنی عبادت گاہ “بیت الذکر” کے نام سے بنائی ھوئی تھی ( اب کا نہیں پتا کہ وہیں ھے )

ان سوال و جواب سے آپ لوگ خود اندازہ لگا سکتے ھیں کہ کس طرح کم عمر و کم علم اذہان کو جھوٹ بول کر خراب کیا جا رہا ھے قادیانیت کے بارے میں ذرا سا علم رکھنے والے بخوبی جانتے ھیں کہ اس مقرر کے جوابات سراسر جھوٹ پر مبنی ھیں اور حقیقت اس کے بلکل برعکس ھے
میں شاید وہاں تک نا پہنچتا اور یہ سب اپنی آنکھوں سے نا دیکھتا اگر مجھے یہ پتا نا چلتا کہ میرا پڑوسی میرا بہترین دوست شکیل ( فرضی نام ) “بیت الذکر” کی دو بار سیر کر چکا ھے ۔۔۔

اس دن جمعرات تھی ہم لوگ کرکٹ کھیل کر ہٹے تو قادیانی دوست جو کہ ہماری ٹیم کا حصہ تھا (ہماری کرکٹ ٹیم میں پانچ قادیانی لڑکے کھیلتے تھے) نے شکیل سے کہا تیار ھو جاؤ جانا ھے ۔۔۔ میرے استفسار پر شکیل نے بتایا کہ کہاں جانا ھے ۔۔۔ مجھے بھی تجسس ھوا تو میں نے بھی اصرار کیا کہ میں بھی چلوں گا ۔۔۔
اس جمعرات تو نہیں البتہ اگلی جمعرات مجھے ساتھ لے جانے کا وعدہ کیا گیا ۔۔۔
وجہ پوچھنے پر اور کچھ تحقیق کے بعد یہ عقد کھلا کہ قادیانی لڑکوں کو ٹارگٹ دیا جاتا ھے اپنے ساتھ کم سے کم ایک لڑکا ہر جمعرات کو لازمی لانا ھے جو کہ کم عمر ھو
اگلی جمعرات کو میرے لیے بھی ایک قادیانی لڑکے کا انتظام کیا گیا جس نے وہاں جا کر یہ لکھوایا کہ اسے میں ساتھ لایا ھوں

اس کے بعد باوجود کئ بار کہنے کے مجھے دوبارہ نہیں لے جایا گیا لیکن شکیل مسلسل جاتا رہا ۔۔۔ میرے سمجھانے و منع کرنے پر بولا
” اعجاز یار تو نے خود سنا کہ وہ بھی ہماری طرح مسلمان ھیں بس ان کا فرقہ الگ ھے، یہ جو مولوی ھے نا اس نے ہمیں ( مسلمانوں کو ) آپس میں لڑایا ھوا ھے ۔۔۔ مولوی کا مقصد ہی یہی ھے کہ انا نو لڑائی جاؤ تے آپے کھائی جاؤ ” ۔۔۔ استغفراللہ ۔۔۔ یہ ھے ذہن سازی کا نتیجہ

بعد میں پتا چلا کہ شکیل اپنی بہن کی شادی اس قادیانی لڑکے کے ساتھ کروانے پہ راضی ھو گیا تھا ۔۔۔ وہ تو خیر اللہ کا کرم ھوا کہ مجھ سمیت کئ دوستوں کے شدید اعتراض اور کچھ گھر والوں کی رضامندی نہ ھونے کی وجہ سے معاملہ ٹل گیا ۔۔۔
یہ ھے ان قادیانیوں کی اصلیت ۔۔۔

میں نے برسوں ان کے بیچ گزارے ھیں ۔۔۔ ان جیسا منافق شاید ہی کہیں دیکھا ھو ۔۔۔ ان کی تربیت اس قدر مضبوط ھوئی ھوتی ھے آپ کبھی اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آپ کے ساتھ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، گھومنے پھرنے والا قادیانی ھے ۔۔۔ یہ لوگ مسلمانوں کے خون میں سرایت کر چکے ھیں

یہ لوگ اس قدر منظم ھیں کہ ان کے شہری مراکز ( بیت الذکر ) میں ہر ایک قادیانی کا مکمل بائیو ڈیٹا موجود ھوتا ھے اس میں یہ تک درج ھوتا ھے کہ فلاں کے کتنے بچے پڑھ رہے ھیں، فلاں کیا کام کرتا ھے، فلاں کس شعبے میں ھے وغیرہ ۔۔۔ ان کی ہفتہ وار ( چھٹی والے دن ) میٹنگ ھوتی ھے، یہ لوگ آپس میں مختلف قسم کے فیسٹیول ( کھیل، مذہبی پروگرام، سیر و سیاحت ) وغیرہ منعقد کرواتے رہتے ھیں جہاں یہ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ رہتے ھیں

اب آئیے تھوڑا ماضی میں چلتے ھیں
قادیانی آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے وجود میں آئے ۔۔اور آتے ہی کہا کہ چودہ سو سال سے جو مسلمان ھیں وہ مسلمان نہیں بلکہ کافر ھیں۔۔ہم ہی اصل مسلمان ھیں اور جو اسلام ہم پیش کرتے ھیں وہی اسلام حق ھے ۔۔۔ یعنی مسلمانوں کی اصل جائے پناہ اسلام پہ قبضے کی کوشش میں لگ گئے۔۔!
پھر یہ ھوا کہ اس گھر کے مکین یعنی مسلمان اس بات سے خائف ھوئے اور انکو دلائل دینے لگے کہ نہیں یہ ہمارا مکان ھے ہم اسکے پہلے سے اور حقے سچے مکین ھیں ۔۔۔ اگر آپ بھی اس گھر کے مکین ھونا چاہتے ھیں تو اس مکان کے مالک یعنی حضور آخر النبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آجائیں تاکہ آپ بھی اس گھر کے مکین کہلا سکیں۔۔!
لیکن ایسا نہیں ھوا ۔۔۔ قادیانی اپنے موقف پہ ڈٹے رہے یہاں تک کہ مسلمان انکو سمجھاتے بجھاتے مباحثے مناظرے مکالمے کرتے کرتے تھک گئے ۔۔۔ بڑی اعصاب شکن لڑائی تھی سو کچھ دوست جذبات میں بھی آئے ۔۔۔
پھر یہ ھوا کہ آواز دبا دی گئی ۔۔۔ کچھ عرصہ اسی طرح بیتا ۔۔۔ یہاں تک کہ قادیانی سمجھنے لگے اب ہم اس گھر کے مالک ھو گئے سو اس گھر کے پرانے مکینوں سے جیسا برتاؤ کریں جائز ھے ۔۔۔ پھر انہوں نے نہتے مسلمانوں پر ربوہ کے مقام پہ حملہ کیا اور مسلمانوں کو مارنا پیٹنا بھی شروع کردیا۔۔۔
دبی چنگاری کو پھر جلا ملنے لگی اور مسلمان منصفی کرانے بڑوں کے پاس جا پہنچے ۔۔۔ دلائل دئیے ۔۔۔ جرح ھوئی یہاں تک کے کئی دنوں کے مباحثے کے بعد منصفوں پر بھی یہ بات کھل گئی کہ قادیانی گھس بیٹھیے ہیں لہذا انہوں نے پہلے مکینوں (مسلمانوں) کے حق میں فیصلہ دے دیا۔۔!

اب ھونا تو یہ چاہیے تھا کہ قادیانی اس فیصلے کو قبول کرتے اور اپنا الگ گھر بناتے یا اگر الگ گھر نہیں بنانا تھا تو ہمارے ملک سے نکل جاتے اپنا ٹھکانہ کہیں اور بناتے ۔۔۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ یہ ہٹ دھرمی پہ اتر آئے ۔۔۔ پہلے جو یہ کھلم کھلا کرتے تھے اب چھپ کر کرنے لگے ۔۔۔ ہماری اشرافیہ بھی کچھ اپنی کمزوریوں اور کچھ ذاتی مفادات کی خاطر ان کے آگے بچھنے لگی ۔۔۔ درپردہ ان کے مقاصد کو قوت بخشنے لگی ۔۔۔
آپ شاید سوچ رہے ھیں کہ میں بنا ثبوت کے الزامات لگا رہا ھوں یا ممکن میری سیاسی مخالفت ھو ۔۔۔ واللہ ہرگز نہیں ۔۔۔ چلیں ایک دو مثالیں دیتا ھوں

آج سے قریبا ڈیڑھ ماہ پہلے یاسمین گارڈن اسلام آباد کے سامنے ایک بہت بڑا کتب میلہ لگا تھا ۔۔۔ مجھے بھی چند کتب لینی تھیں سو میں بھی وہاں چلا گیا کہ رعایتی نرخ پہ مل جائیں گی ۔۔۔ وہاں “ذرا ہٹ کے” ٹی وی پروگرام والے وسعت اللہ سے ملاقات ھوئی اور ایک بہت ہی پیاری شخصیت جناب محترم محمد بلال خان بھائی سے بھی کافی دیر نشست رہی ( جس کا تذکرہ انہوں نے اپنی وال پہ پوسٹ کی صورت میں بھی کیا ) ۔۔۔ خیر موضوع پہ آتے ھیں مجھے باقی کتب تو مل گئیں لیکن رد قادیانیت پہ منظور احمد چنیوٹی صاحب کی ایک کتاب نہ ملی ۔۔۔ درجنوں کے حساب سے بک سیلر آئے ھوئے تھے لیکن میری مطلوبہ کتاب نہ ملی تو سوچا کہ چلو ردقادیانیت پہ کوئی اور کتاب دیکھ لیتا ھوں ۔۔۔ ایک گھنٹہ گھومنے کے بعد یہ انکشاف ھوا کہ اس موضوع پہ کوئی کتاب دستیاب نہیں

اس کے دو تین دن بعد مکتبہ دارالسلام جو کہ ایک مشہور اور بڑے بک سیلر ھیں کی دوکان واقع ایف ایٹ چلا گیا اور مطلوبہ کتاب مانگی ۔۔۔ کہنے لگے دوکان پہ دستیاب نہیں آپ کو کل تک منگوا دیتے ھیں ۔۔۔ میں نے کہا منگوا دیں تو مشکور ھوں گا
دوسرے دن گیا تو پتہ چلا کہ کچھ عرصہ قبل گورنمنٹ نے پورے پاکستان سے فرقہ واریت پر مبنی مواد ( جن کی تعداد شاید سو کے لگ بھگ ھے ) کو تلف کردیا تھا تو اس وقت ردقادیانیت کو بھی “فرقہ واریت” کے کھاتے میں ڈالتے ھوئے اس موضوع پہ تمام کتب بھی تلف کردی گئ تھیں ۔۔۔ دماغ گھوم گیا ۔۔۔۔۔ قادیانیت کا فرقہ واریت سے کیا تعلق ؟؟؟

خیر اطلاع ملی تھی کہ اسی دن دعوہ والوں نے فیصل مسجد میں کتب میلا لگایا ھوا ھے تو وہاں چلا گیا ۔۔۔ لگا تمام سٹال گھومنے ۔۔۔ لیکن مطلوبہ کتاب تو کیا ملتی تمام بک سٹالز پر ردقادیانیت پہ ایک کتاب بھی موجود نہ تھی ۔۔۔۔۔ پھر فیصل مسجد کی بک شاپ پہ گیا تو وہاں بھی اس موضوع کے متعلق کوئی کتاب موجود نہ تھی ۔۔۔ اب آپ اندازہ لگا سکتے ھیں کہ قادیانیت کو کس قدر پرموٹ کیا جا رہا ھے اور وہ بھی سرکاری سطح پر ۔۔۔

اب آئیے ذرا مزید ماضی میں چلتے ھیں
اسود عنسی کا نام سنا ھے ؟
مسیلمہ کذاب کا ؟
سجاح کا ؟ ۔۔۔ اور بھی کئ نام ھیں
یہ سب وہ ھیں جنہوں نے ماضی بعید میں نبوت کا دعوی کیا اور جن کے خلاف مسلمانوں نے لشکر کشی کی اور اس وقت تک ان سے جنگ کرتے رہے جب تک ان جھوٹے نبیوں کے تمام پیروکار جہنم واصل نہیں ھو گئے یا توبہ کر کے دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل نہیں ھو گئے ۔۔۔ دوبارہ پڑھیے کہ مسلمان اس وقت تک ان سے لڑتے رہے جب تک ان جھوٹے نبیوں کا ایک بھی پیروکار زندہ رہا ۔۔۔ یا ۔۔۔ وہ دائرہ اسلام میں داخل نہیں ھو گیا

اسلامی قوانین کے مطابق تو قادیانیوں کا قتل بنتا ھے اس وقت تک جب تک یہ اسلام قبول نا کرلیں، یا خود کو مسلمان کہنا چھوڑ دیں، یا پھر ان کو ملک بدر کردیا جائے ۔۔۔ لیکن چونکہ اب ہماری حکومتیں مصلحت کا شکار رہتی ھیں اور ہماری اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہم اس قابل نہیں کہ بیرونی دباؤ برداشت کر سکیں اس لیے ایسے اقدام پہ عمل تو کجا سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔۔۔ لیکن
اگر اسلامی قوانین بیرونی دباؤ کی وجہ سے قابل عمل نہیں تو کیا ملکی قوانین پہ عمل دارآمد بھی نہیں کروایا جا سکتا ؟؟؟
قادیانی اب تک کیوں خود کو مسلمان کہتے ھیں ؟؟؟

جو احباب معترض ھیں کہ ان کو اقلیت برابر حقوق کیوں نہیں ملتے وہ اس پہ اعتراض کیوں نہیں اٹھاتے کہ یہ خود کو ابھی تک مسلمان کیوں کہتے ھیں ؟؟؟ یہ برسوں سے جھوٹ کیوں بول رہے ھیں ؟؟؟
معترضین پہلے ان سے خود کو اقلیت تسلیم تو کروا لیں ۔۔۔ پھر حقوق مانگیں
قادیانی خود کو اقلیت ماننے کو تیار ہی نہیں اور ہمارے کچھ لبرل دوست ان کے لیے اقلیتی حقوق مانگ مانگ ہلکان ھوئے جا رہے ۔۔۔ یہ تو وہی بات ھوئی جیسے پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ

کچھ دوست یہ اعتراض اٹھاتے کہ نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کے خلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تو کوئی جنگ نہیں لڑی تو پھر آپ لوگ کون ھوتے ان کے خلاف لڑنے کا کہنے والے ۔۔۔
جناب بلاشک آپ کا یہ کہنا درست کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف خود تلوار نہیں اٹھائی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسود عنسی کے خلاف جہاد کا ارادہ کیا تھا

“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مسیلمہ کذاب آیا، اس دعویٰ کے ساتھ کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے بعد ( اپنا نائب و خلیفہ ) بنا دیں تو میں ان کی اتباع کر لوں۔ اس کے ساتھ اس کی قوم ( بنو حنیفہ ) کا بہت بڑا لشکر تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی۔ جہاں مسیلمہ اپنی فوج کے ساتھ پڑاؤ کئے ہوئے تھا، آپ وہیں جا کر ٹھہر گئے اور آپ نے اس سے فرمایا اگر تو مجھ سے یہ ٹہنی مانگے گا تو میں تجھے یہ بھی نہیں دوں گا اور تو اللہ کے اس فیصلے سے آگے نہیں بڑھ سکتا جو تیرے بارے میں پہلے ہی ہو چکا ہے۔ تو نے اگر میری اطاعت سے روگردانی کی تو اللہ تعالی تجھے ہلاک کر دے گا” ۔۔۔ بخاری
اس روایت سے صاف واضح ھے کہ نبوت کے منکرین کو پہلے تبلیغ کرو اگر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے تو ان سے بزور طاقت نبٹا جائے اور یہی آپ کا ارادہ تھا

ایک روایت کے مطابق “مسیلمہ کذاب نے دو قاصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجے، آپ نے پوچھا کیا تم مسلیمہ کو نبی مانتے ھو ؟
وہ بولے جی ہم اسے نبی مانتے ھیں
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر قاصدوں کا قتل روا ھوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا” مفہوم حدیث
گویا اگر قاصدوں کو اسلام نے امان نہ دی ھوتی تو جھوٹے نبی کے قاصدوں اس کے پیروکاروں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کا حکم دیتے ۔۔۔ یہ ایک روایت ہی کافی ھے کہ منکرین نبوت کے ساتھ کیا سلوک ھونا چاہیے

لیکن اللہ عزوجل کی طرف سے بلاوا آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ارادے کو عملی جامہ نہ پہنا سکے لیکن مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تو تلوار اٹھائی نا ۔۔۔ ہمارے لیے ان کی پیروی بھی لازم ھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

“عنقریب تم لوگ میرے بعد سخت اختلافات دیکھو گے ایسے میں تم میرے اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا” ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ

اب جناب یا تو آپ کہہ دیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہدایت یافتہ خلیفہ نہیں ( نعوذ بااللہ ) یا پھر ان کی پیروی لازم ھے ۔۔۔ واللہ اعلم