عجیب محبت

وہ بہت ہی خوبصورت لڑکی تھی ۔۔اور میں نے ابھی ابھی جوانی میں قدم رکھ ہی تھا۔رابطہ کسے ہوئے ۔۔کتنی دیر رہا۔اک لمبی کہانی ہے۔۔۔اس کا عشق میرے لے کمال تھا۔۔وہ سکول کی ٹیچر تھی ۔بڑی عجیب اور ان چھوٹی چھوٹی خواہش رکھتی تھی ۔۔میں سکول جا رہی ہو ۔مجھے زرور دیکھنا ۔۔میں واپس آ رہی ۔۔۔مجھے دیکھ لو آ کر ۔۔مجھے عشق کی سمجھ ہی نہ تھی تب تک ۔۔۔
اس کی شادی کے دن بہت نزدیک آ رہے تھی ۔۔وہ مجھے کہتی تھی میں بہت دور چلی جاو گئ ۔۔اک بار مل ہی لو ۔۔کیا پتا پھر دیکھنا بھی نصیب ہو کہ نہ ہو ۔۔
مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی ۔۔کہ مل سکوں میرے ساتھ عجیب ہی کام ہوتا تھا میری ٹانگیں کانپنے لگتی تھی ۔۔اک بار اس نے بہت کہا تو میں مان گیا۔۔
اک ہوٹل میں ہم کھانا کھانے گے ۔۔وہ وہاں اپنی اک سہیلی کے ساتھ آئی تھی۔عجیب معاملہ تھا اس نے کچھ بھی نہیں کھایا صرف میرا ہاتھ پکڑ کے بٹھی رہئ اور مجھے دیکھتی ہی رہی ۔اسے نشا سا ہو رہا تھا۔میں نے اسے کہا بھی کچھ کھا لو اس نے اک بھی لقمہ نہ کھایا۔۔مجھے اپنے ہاتھوں سے کھالنا شروع کر دیا۔مجھے بڑا عجیب لگ رہا تھا ۔۔۔جبکے اس کی دوست بریانی کھانے میں مصروف ۔۔اور جو بچ گئ پیک کروا کے ساتھ لے گئ
30 منٹ کی یہ ملاقات مجھے یہ محسوس کرنے کے لے بہت تھی ک یہ میری گود میں بہوش ہو جائے گئ۔۔۔۔۔بار بار سر رکھ دیتی۔مجھے ڈر تھا ۔۔۔لوگ دیکھنا شروع ہو جائے گے۔۔۔
اس کی شادی کا دن آگیا اس نے مجھے کہا تھا اور میری شادی پر زرور آنا ۔وعدہ لیا تھا۔۔میں چلا گیا ۔۔میں نے اس کی مہندی پر دیکھ وہ بہت کمال کی لگ رہی تھی ۔۔۔
نکاح کے وقت اس نے مجھے فون کیا۔۔تم اجازت دو گے تب ہی میں دستخط کرو گی ۔۔۔مجھے اس نے پارلر کے وقت بولایا۔۔۔میں وہاں گیا ۔۔وہ مجھے پاگلوں کی طرح چوم رہی تھی۔۔۔میرے ہاتھ ماتھ ۔۔۔چوم چوم کے پاگل ہو گی۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔تب اس نے کہا میں تب تک دستخط نہیں کرو گئ جب تک تم وہاں نہیں ہو گے۔۔۔اس کی بہن نے مجھے بتایا ۔۔۔کی یہ کوئی ہنگما نہ کھڑا کر ۔۔تم کو روم تک میں لے کے جاو گا۔۔۔
مجھے کال ائی مجھے کس بہانے سے اندر لے کر گے ۔۔۔نکاح کے وقت جب دستخط کا وقت ایا ۔۔اس نے اک ہاتھ سے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے مجھ سے دستخط کروئے۔۔۔وہ بلکل بھی نہیں روئی تھی۔۔۔
اس کے بعد روئی تو میں نے فون پر چپ کروایا
میرے سامنے ہی روخستی ہوئی۔۔اور وہ بہت دور پنجاب سے کراچی چلی گئ۔۔
دس گھنٹے کا سفر رات کے تین بجھے مجھے فون آیا۔۔۔اس نے اپنے خاوند کے نبمر سے ہئ مجھے کال کر دی۔۔اس کے پاس فون نہ تھا۔
دل بہت ہے بے چین تھا ہم دونوں کا اس کی آواز سنی مجھے اور اس کو سکون مل گیا۔۔۔
10 منٹ بات ہوئی اسکے بعد فون پر رابط رہا۔۔
اس کے عشق کی انتہا دیکھی میں نے ۔۔سٹنڈ لینے کی ہمت نہ اس میں تھی نہ مجھ میں

میں نے اسے سمجھا تاکہ وہ غلط قدم نہ اٹھا سکے۔۔۔
میں نے خود کو اس سے دور کیا ۔۔تاکہ وہ سنبھال سکے ۔۔۔
پھر وہ اک دن واپس ائی اس نے کہا ۔مجھے تیرا بےبی چاہے۔۔ورنہ میں مر جاو گئ۔۔اس کی حالت اسی تھی ۔۔سیاہ حلقے ۔۔کمزور جسم ۔مرجائی ہوئی۔۔مجھے لگا یہ مر جاے گئ۔۔۔وہ 1 سال کے بعد ائی تھی
اس نے 5 منٹ مانگے تھے میں نے دے دیائے تھے

وہ جاتے ہوئے بہت خوش تھی اس نے جاتے وقت بتایا تھا ۔کہ وہ خوش خبری سنائے گئ۔۔۔میں حیران تھا ۔2 منٹ میں یہ کسے ہو سکتا ہے۔۔
کبھی کبھی کچھ سمجھ نہیں اتئ
پھر وہ چھے ماہ بعد گھر آئی ۔۔وہ حاملہ تھی وہ خوش تھی اور بہت کمزور بھی ۔۔ڈلیوری کے وقت خون کی ضرورت تھی۔۔۔
مجھے فون آیا کے مجھے ترا خون چاہے۔۔میں نے ٹسیٹ کروا ۔۔تو خون مل گیا۔میں اپنا خون بھی اسے دیا۔۔۔۔
اس کے بیٹا ہوا ۔۔مجھے دیکھنے لے کے آئی ۔۔اس کی بہنوں کو پتا تھا کے وہ میرے لے پاگل ہے۔۔۔۔
اس کے بعد وہ دور ہوتی گئ۔۔اس کو میرا خون مل چکا تھا ۔۔وہ اس کے ساتھ ہی زندگی گزار رہی ہے۔۔۔
مجھے نہ عشق کی سمجھ ائی ۔۔نہ یہ سمجھ ائی کہ اسے مجھ میں کیا نظر آیا تھا۔۔۔۔۔۔
ایسا عشق دوبارہ نہیں ملا۔۔۔۔۔
اس کا بس اک ہی بیٹا ہے ۔۔۔چومتی رہتی ہے اسے پاگلوں کی طرح جس طرح مجھے چومتی تھی ۔۔۔۔۔۔
4 سال میں 6 ملاقات ہوئی بس۔۔۔وہ بھی مجبوری میں۔پتا نہیں کیا اور کیسا عشق ہوا تھا کیا تھا۔۔۔
میں نے اس کے عشق کی انتہا دیکھی تھی ۔اور میں نے اس کی قدر کی۔۔میں یہ نہیں چاہتا تھا ۔۔کہ وہ زندہ ہی نا رہے۔۔۔۔۔۔
میرے دو منٹ اس کے جینے کی وجہ بن گے ۔۔۔