مائی لاوڈ سپیکر

نام تو اس کا مائی زلیخا تھا مگر اپنی بے سری پاٹ دار آواز کی وجہ سےمائی لاوڈسپیکر پڑگیا تھا۔۔اس نے کبھی برا بھی نہیں منایا۔۔۔اپنی بے ہنگم ڈیل ڈول اور شٹل کاک برقعے کے ہمراہ ہر گھر میں روزانہ کے حساب سے حاضری اور اپنی ان بیماریوں کے ذکر_خیر کے ساتھ پائی جاتی جس کے ہم نے اب تک صرف اخبار میں نام ہی سنے ہوتے تھے۔۔
مجال ہے کہ کوئی بیماری کسی بندے کو لگی ہو اور وہ مائی زلیخا میں نہ پائی جاتی ہو۔۔اپنی نام نہاد بیماریوں کا 24 گھنٹے دکھڑا سنانا مائی کا دل پسند خبرنامہ تھا۔۔۔
وہ غضب کی نظر شناس تھی اسے ایک نظر ہی میں اندازہ ہوجاتا کہ اگلے بندے کو کیا بیماری ہے اور اس کی کونسی جگہ درد کررہی ہے۔۔وہ اگلے مسلمان کے بولنے سے پہلے ہی اسی جگہ پہ ہاتھ رکھ کر ،،ہاائے ،،کی زوردار آواز کے ساتھ باقاعدہ دوہری ہوکر اتنی شدید کرب کے ساتھ واویلا شروع کردیتی کہ اگلابندہ اپنی تکلیف بھول کر اس کی فکر میں لگ جاتا۔۔
اس کی پوری اور حتمی کوشش یہی ہوتی تھی کہ سب لوگ متفقہ طور پر یہ بات تسلیم کریں کہ پورے عالم_اسلام میں صرف اسے ہی ہر بیماری لاحق ہے باقی کسی مائی کے لال میں بیمار ہونے کی اہلیت ہی نہیں۔۔
جیسے ہی ہمارے گھر وارد ہوتی گیٹ کے پاس سے ہی کڑکدار آواز میں ،اففففو ،کی چھنگاڑ سے باور کراتی کہ اپنے اپنے کام چھوڑ کر زبردستی میری طرف متوجہ ہوجاو۔۔
اس دن چھوٹا بھائی موٹر سائکل سے گر کر گھٹنے پہ پلستر چڑھواکر درد سے ہائے ہائے کررہاتھا ہم سب اس کے ساتھ پریشان تھے کہ عین اسی وقت مائی زلیخا نے بھی نزول فرمایا۔۔۔
جیسے ہی گیٹ کے پاس مائی کی ،افففو،سنائی دی بھاٸی تکلیف اور درد کے باوجود اچھل کر بیٹھ گیا۔۔۔
اور دور سے ہی لال بھبھوکا چہرے کے ساتھ بولا۔۔۔۔
، اے مائی خبردار جو کسی اور نے آج اپنا دکھڑا سنایا۔۔۔آج صرف مجھے ہی تکلیف ہے اور بلکل اوریجنل ہے۔۔دیکھو پلستر چڑھا ہوا ہے پاوں پہ۔۔۔۔،
اب صورتحال یہ تھی کہ دونوں ایک دوسرے کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہے تھے مائی کو سخت صدمہ ہوا کہ اس دو ٹکے کے چھوکرے کی بھی اتنی ہمت ہوئی کہ میری جگہ اسے درد ہورہا اور میری ان گنت اور سدابہار بیماریاں سرجھکا کے خاموش کھڑی رہ گئی ہیں۔۔
مائی نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری۔۔۔
اس نے بھاٸی کے گھٹنے پہ ہاتھ رکھ کر روہانسی آواز میں فرمایا۔۔۔
،بلکل پتر۔۔۔یہ گھٹنے کا درد بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔۔مجھے بھی پچھلے سال چوٹ لگی تھی تو دس دن ہلنے جلنے سے معذور رہی تھی،
مگر بھاٸی بھی آج تہیہ کئے بیٹھا تھا کہ ہم نے تیری کوئی بات نہیں سننی۔۔۔
اس نے بپھر کر ۔۔ہاتھ ہلا کر کہا۔۔
،بس مائی جو بھی ہے پچھلے برس کی بات دفع کریں۔۔فی الموقع مجھے زیادہ درد ہورہا آپ کو میری تکلیف کے حوالے سے ہی آج بات کرنی ہوگی،
اس پر مائی تلملا کر ہی رہ گئی۔۔کہ چھوکرا بلکل ہی ہاتھ نہیں آنے والا۔۔۔۔
زندوں کو تو چھوڑ مائی نے کبھی کسی مردے کو بھی فوتگی کا سواد نہیں لینے دیا۔۔۔جیسے ہی فوتگی والے گھر گھستی ڈائنوسار جیسی کرخت آواز میں زوردار چھنگاڑ کے ساتھ ،ہائےےے اللہ،کہہ کر دھڑام سے کسی نزدیکی چارپائی پہ گرجاتی اور بے ہوشی کا نام نہاد دورہ پڑجاتا۔۔۔سب لوگ مردے کو چھوڑ کر مائی کی خیر مدارت میں شروع ہوجاتے۔۔کوئ پاوں سہلاتا تو کوئی پیشانی پہ گیلا کپڑا رکھتااور فٹافٹ اس کیلئے روح افزا کا شربت تیار کرکے لایا جاتا جس کو وہ ہزار بے ہوشی کے باوجود غٹاغٹ پی جاتی۔۔۔
مائی شایددنیا کی واحد خاتون تھی جسے فوتگی والے گھر جبکہ مردہ پڑا ہوا ہو۔۔۔مشروب_مشرق پیش کرکے پلایا جاتا۔۔
ایک بات میں نے یہ نوٹ کی تھی کہ دوران_بے ہوشی مائی کو کبھی زمین پہ گرنے کا اتفاق نہیں ہوا ہمیشہ کسی نزدیک ترین چارپائی کو مدنظر رکھ کر ہی گرنے کا ثواب_دارین و کولڈڈرنک حاصل کرتی۔۔
مائی پہ جنات کا بھی سایہ تھا جو عین اسی وقت تشریف لے آتے جب مائی کو ہی ان کی ضرورت پڑتی کبھی اپنی مرضی سے کسی بھی جن کو آنے کی توفیق حاصل نہ ہوسکی۔۔
مجھے پوری دنیا میں سب سے زیادہ ترس مائی کے جنات پہ آتا تھا وہ بھی سوچ رہے ہونگے کہ ہم کس ظالم ہستی کے ہاتھ لگے ہیں۔۔۔
بے چارے شریف جنات۔۔۔۔جو مائی کے مرید بنے ہوئے تھے۔۔
مائی اکٹرشادی والے گھر میں ہی جنات کو بلانے کا آرڈر جاری کرتی کہ شادی والے گھر چونکہ شور شرابا زیادہ ہوتا ہے تو مائی سب لوگوں کو بیک وقت اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے اسی اوچھے ہتھکنڈے کا استعمال کرتی۔۔۔
اچانک مائی کو دورہ پڑجاتا ۔۔ڈھولکی والے ڈھولکی اور گانے والے گانا بند کرکے مائی کے گرد آکے کھڑے ہوجاتے۔۔۔
مائی آنکھیں بند کرکے۔۔۔تشنج کی کیفیت خود پر طاری کرکے اورآواز میں بس ہلکی سی تبدیلی فرماکر دو گھنٹے تک شادی ختم اور بکواس_عظیم شروع کا نوٹیفیکیشن جاری کردیتی جس کی اطاعت سب پہ لازم تھی۔۔
اس فضول ترین ڈرامے کا اختتام بھی زیادہ تر حلوے۔۔۔لڈو اور مشروبات پہ ہوتا تھا جو مائی کو عقیدت اور احترام سے کھلائے پلائے جاتے اور مائی تناول فرماتی۔۔۔
مجھے ساری زندگی بس ایک ہی حسرت رہی کہ کسی دن مائی کو واقعی اصلی والی تکلیف میں دیکھوں۔۔کبھی کسی سانپ بچھو ہی کو استطاعت ملے کہ مائی کو کاٹے اورمیں اس کی پیور و جینوین دہائی سنوں۔۔۔ شاید یہ حسرت لئے میں وفات پاجاونگا مگر کوئی ایسا واقعہ ظہور پذیر نہیں ہوگا۔۔
سانپ ،بچھو کو بھی جراءت نہیں کہ یہ کار_خیر انجام دے۔۔۔۔سالے۔۔۔۔۔ڈرپوک۔۔۔۔۔بزدل۔۔۔۔۔۔۔