فائیو جی ٹیکنالوجی: مختصر تعارف

آج کل’’ 5-جی‘‘ کے متعلق اکثر سننے کو ملتا ہے- 5جی سے مراد موبائل ٹیکنالوجی کی پانچویں جنریشن (th Generation5) ہے-یہ ٹیکنالوجی 4-جی کے مقابلے میں بہت تیز ہے (پاکستان میں ابھی 3 – جی ٹیکنالوجی مشکل سے کامیاب ہوئی ہے) -موبائل فونز ٹیکنالوجی کی جنریشن میں جونہی تبدیلی آتی ہے تو ٹاور میں نصب تکنیکی آلات، موبائل فون اور سم چپ کو بھی اُس ٹیکنالوجی کےمطابق تبدیل کیا جاتا ہے جس سے صارفین جدید سروس کو استعمال میں لا سکتےہیں-اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے کیلئے ہم موبائل فون کے کام کرنے کے مختلف آلات پر نظر ڈالتے ہیں-دراصل موبائل سگنلز کو لانے اور لے جانے والی ریڈیو ویوز ہمارے اردگرد ایک مخصوص شکل میں سفر کر رہی ہوتی ہیں لیکن اُن سگنلز کو کار آمد بنانے کیلئےمختلف آلات کا استعمال کیا جاتا ہے-دنیا میں کسی بھی شخص سے رابطہ کرنے کیلئے ٹاور سے موبائل تک سگنل کی رسائی میں چار بنیادی چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں:
• موبائل فون
• علاقائی ٹاور
• مین ٹاور
• مین کنڑولر 1. MS: Mobile Station)- Initial Step)
2. BTS: Base Transceiver Station
3. BSC: Base Station Controller
4. MSC: Mobile Switching Center)-Master Controller(
جب ہم موبائل فون(MS) سے کوئی نمبر ڈائل کرتے ہیں تو وائر لیس سگنل قریب ترین علاقائی ٹاور (BTS) تک رسائی حاصل کرلیتا ہے اور ٹاور ان سگنلز کو مین ٹاور (BSC) تک رسائی دیتا ہے-یہ درمیانی ڈیوائس ہے جو تمام بیس سٹیشن کی ورکنگ کو سنبھالے ہوتا ہے اور ان سگنلز کو ماسٹر یا مین کنٹرولر (MSC)تک رسائی دیتا ہے جو کہ مخصوص ایریا میں ہوتے ہیں-یہ پورے سسٹم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو سیکورٹی اور سِم نمبر چیک کرنے کے بعد (MSC1)کو وہ ٹاسک دے دیتا ہے جودوسرے راستے سے واپس 1سے 3 تک پروسیس کو مکمل کرتا ہوا مطلوبہ نمبر تک رسائی حاصل کر لیتا ہے-اس تمام عمل میں مختلف چینل کام کرتے ہیں جو کہ ہر صارف کیلئے مختلف ہوتے ہیں-اگر تمام چینل مصروف ہوں تو نئے آنے والے صارف کو انتظار کروایا جاتا ہے یا اُسے ’’مصروف ہے ‘‘ کا میسج موصول ہو جاتا ہے-اس تمام عمل کا ذکر کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ ہمارا 5-جی تک کاموبائل سفر سمجھنے میں آسانی ہو-کمپیوٹر کی ہر تبدیل ہونے والی جنریشن نے جس طرح انقلاب برپا کیا اُس طرح موبائل ٹیکنالوجی کی ہر نئی جنریشن نے بھی انسان کیلئے کائنات تسخیر کرنے کی راہیں ہموار کی ہیں- ابھی تک آنے والی جنریشنز درج ذیل ہیں:
1. (G1-(1980-1990)
2. (G2-(1990-2000) 3. G3-(2000-2010)
4. (G4-(2010-2020) 5. G5-(2020-2030)

(G1-1980-1990)

1980 میں وائرلیس (موبائل) ٹیکنالوجی کی پہلی جنریشن متعارف کروائی گئی-1G میں اینالاگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیاجس نے پہلی مرتبہ وائر لیس پیغام رسانی کی بنیاد رکھی اس میں صرف آواز کےذریعے پیغامات دیے جاتے تھے مثلاً واکی ٹاکی-1جی میں بیٹری لائف ،کال سیکورٹی،کال ڈراپ اور اس طرح کے دیگرمسائل کا سامنا تھا-

(G2-1990-2000)

1990ء میں 2G ٹیکنالوجی کا آغاز کیا گیا اوراس میں ڈیجیٹل GSM, CDMA اور دیگر موبائل کمیونیکیشن سٹینڈرڈز کی بنیاد رکھی گئی-2G میں صاف وائس کالز کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایس، پکچر میسجز اور MMS جیسی سروسز کا بھی آغاز کیا گیا-بعد ازاں تیز رفتار GPRS اور EDGE سروسز متعارف کروائی گئیں جس کی بدولت موبائل پر انٹرنیٹ کی زیادہ تیز رفتار کا حصول ممکن ہوا-اسے عام طور پر تھری جی اور ٹو جی کے درمیانی ٹیکنالوجی جانا جاتا ہے اور اس کا نام 2.5G رکھا گیا ہے- اس وقت جی پی آر ایس سروس کے ذریعے صارفین کو 15 سے 20 کلو بائیٹ فی سیکنڈ کی رفتار فراہم کی جاتی ہے-

(G3-2000-2010)

3G کے ذریعے موبائل صارفین کو تیز رفتار (براڈبینڈ) انٹرنیٹ فراہم کیا گیا-اس ٹیکنالوجی کی مدد سے آپ موبائل فون پر ویڈیو، لائیو ٹیلی ویژن، ویڈیو کانفرنسنگ، تیز رفتار انٹرنیٹ براؤزنگ اور دیگر سروسز حاصل کرسکتے ہیں- یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ EVO اور WiMAX بھی دراصل تھری جی ٹیکنالوجی پر بنیاد کردہ ہیں-تھری جی کے تحت صارفین کو Kbps512 سے Mbps3.1 تک انٹرنیٹ رفتار فراہم کی جاسکتی ہےجس کی مدد سے بیشتر سوشل میڈیا سروسز تک بھی بلا تعطل رسائی ممکن ہوئی ہے-

(G4-2010-2020)

4Gاس وقت سب سے تیز رفتار موبائل کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ہے- اس ٹیکنالوجی کے ذریعے جہاں روایتی کالز، ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس جیسی سہولیات حاصل کی جاسکتی ہیں وہیں آپ Mbps100 تک تیز رفتار موبائل براڈبینڈ کی سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں-اس میں IP-based وائس کالز، آن لائن گیمز اور ایچ ڈی(بہترین کوالٹی ) سٹریمنگ کے فیچرز بھی شامل ہیں- یہ سروس اس وقت دنیا کے بہت سے ممالک میں میسر ہے اور اس کے تحت صارفین زیادہ تر موبائل انٹرنیٹ کا ہی استعمال کرتے ہیں-یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر نئی موبائل جنریشن کے لیے موبائل ٹاورز اور موبائل فون کو اپ گریڈ کرنا لازمی ہے- اگر آپ کے پاس تھری جی فون ہے تو آپ اس پر فور جی ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرسکتے- لیکن اگر آپ کے پاس فور جی فون ہے تو آپ اسے نہ صرف فور جی نیٹورک، بلکہ تھری جی یا جی پی آر ایس کے ساتھ بھی استعمال کرسکتے ہیں-

(G5-2020-2030)

اب ہم موبائل کمیونیکیشن کی th5 جنریشن میں داخل ہونے جا رہے ہیں جو 2020 میں دستیاب ہونے کی امید ہے جس کی سپیڈ 3 جی کے مقابلے میں 1000 گنا اور 4 جی سے 100 گنا تیز ہو گی اور جو ہزاروں نیٹ ورکس کو کنٹرول کر سکے گی- فائیو جی کے تجربات سے یہ معلوم ہوا کہ 5جی کی رفتار 4 گیگا بائٹس فی سیکنڈ ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ اپنی فل رفتار پر پچاس جی بی کی فائل محض 1منٹ میں جبکہ سو جی بی کی فائل تقریباً چار منٹ میں ڈاؤن لوڈ کر سکےگی-آسان الفاظ میں آپ ایک منٹ میں فل ایچ ڈی کی دس سے پندرہ فائلز اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے- ابتدائی تحقیقی رپورٹ کے مطابق5جی موبائل ٹیکنالوجی ایک مربع کلومیٹر کے اندر 10 لاکھ یا 1ملین ڈیوائسز کو آپس میں جوڑ(connect) سکتی ہےاور یہ موجودہ موبائل انٹرنیٹ کنکشن سے ہزار گنا جبکہ گھریلو براڈ بینڈ کنکشن سے سو (100)گنا تیز ہوگی-صرف رفتار ہی نہیں فائیو جی ایسے فیچرز کے ساتھ ہوگی جو آنے والی دنیا کو بدل کر رکھ دے گی-اس نئی ٹیکنالوجی کے آنے سے پانچ چیزیں دنیا کو متعارف کروائی جائیں گی جن میں ’’ملی میٹر ویو‘‘، ’’سمال سیل‘‘،’’میسو مائمو‘‘، ’’بیم فورمنگ‘‘ اور ’’فل ڈپلیکس‘‘ شامل ہیں –

ملی میٹر ویو (Mili Meter Waves)

موبائل ٹیلی کمیونیکیشن کا دارومدار ریڈیو فریکونسی پر ہوتا ہے- 4جی میں ریڈیو فریکوینسی 3میگا ہرڈز سے 6 میگا ہرڈز استعمال ہو رہی تھی جبکہ 5 جی میں بڑھا کر 300 میگا ہرڈز کر دیا جس کی وجہ سے ایک ہی وقت میں ہزاروں ڈیوائسز ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گی-

سمال سیل (Small Cell)

سمال سیل بیس ٹاور سے منی ٹاور ہوتے ہیں جو کہ بڑی بڑی بلڈنگز کی موجودگی کی وجہ سے سگنل ڈراپ نہیں ہونے دیں گے جب صارف ایک جگہ سے دوسری جگہ جائے گا تو یہ خود بخود منی ٹاور سے منسلک ہو جائے گا جو سگنل بیس ٹاور تک پہنچا سکے گا-

میسو مائیمو (Massive MIMO)

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ’’MIMO‘‘ (Multiple Input Multiple Output) 4-جی بیس اسٹیشن تمام موبائل ٹیلی کمیونیکیشن کو کنڑول کرنے میں کمزور ہیں تو اس لیے یہ ٹیکنالوجی سمال سیل اور ملی میٹر ویو کی مدد سے تمام ٹیلی کمیو نیکیشن کو کنڑول کرنےکی صلاحیت رکھتا ہے جوکہ سگنل کا ایک مجموعہ اپنے پاس رکھے گا-

بیم فورمنگ (Beamforming)

یہ ٹریفک سگنل کی طرح کام کرتا ہے جس میں متعلقہ ڈیٹا صرف اُسی صارف کو دیا جاتا ہے جس صارف کو اُس کی ضرورت ہوتی ہے یہ آنے اور جانے والے صارف کے ڈیٹا کو کنڑول کرتی ہے-اگر آپ بڑی عمارتوں والی جگہ پر ہیں تو MIMO کی مدد سے بیم فورمنگ آنے والے سگنل کی سمت کے بارے میں بتائے گی اور صارف کو مکمل سروس مہیا کرے گی جو کہ اس کو سگنل کی سمت بتانے میں مدد دیتا ہے- بیم فورمنگ بڑی بلڈنگ کے قریب ہونے پر بھی سگنل کو مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور واپس اُسی سمت سگنل کو بھیجتا ہے –

فل ڈپلیکس(Full Duplex)

جب سگنلز ایک ہی سمت سے آتے اور جاتے ہیں تو کمزور ہوجاتے ہیں تو اس کمی کو فل ڈپلیکس نے پورا کیا جس سے ایک الگ راستہ سگنل کے آنے اور جانے کابن جاتا ہے جس کی وجہ سے سگنل کمزور نہیں ہوتے-

سرجری میں مدد:

رفتار سے ہٹ کر فائیو جی کا سب سے بڑا فائدہ ایک نیٹ ورک ڈیوائس سے رابطہ اور ریسپانس کا وقت مختصر ہونا ہے، فور جی میں یہ مسئلہ موجود ہے مگر فائیو جی نیٹ ورک نے اس مسئلہ کو دور کر دیاہے اس خصوصیت کی وجہ سرجن کے لیے ضروری نہیں ہوگا کہ مستقبل میں وہ آپریشن کے لیے مریض کے ساتھ کمرے میں ہو، بلکہ وہ ’’وی آر ہیڈ سیٹ‘‘ اور خصوصی دستانوں کے ذریعے ایک روبوٹ کو کنٹرول کرکے5جی ٹیکنالوجی کی تیز ترین انٹرنیٹ سروس سے آپریشن کو دنیا کے کسی بھی کونے سے بیٹھ کر سرانجام دے سکیں گے جس کا تجربہ بہت سے ڈاکٹرز اور سائنسدان کر رہے ہیں-

میلوں دور سے چیزوں کو چھونے کا احساس:

سرجری سے ہٹ کر کنگز کالج لندن کی ٹیم ’’ہیپٹک فیڈ بیک‘‘ پر بھی کام کررہی ہے جس کے ذریعے صارفین اپنے تجربے کے احساس کو دوسری جگہ بھیج سکیں گے، ویڈیو کے مناظر اور آواز کو زیادہ دور تک پھیلا سکیں گے-

خودکار گاڑیاں:

موجودہ دور میں انسان ڈرائیونگ کی پریشانی سے نجات حاصل کرنے کیلئے سیلف ڈرائیونگ کار پر تجربے کر رہا ہے-اس وقت گوگل اور دیگر کمپنیاں خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں پر سرمایہ کاری کررہی ہیں جس میں سٹیرنگ وہیل، بریک اور سپیڈ پیڈل موجود ہی نہیں لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی مکمل خودکار گاڑیوں کے خواب کی اصل تکمیل 5 جی نیٹ ورک کے ساتھ ممکن ہو گی کیونکہ مین سنٹر سے سیلف کار تک پیغام پہنچانے میں دقت سے گاڑیاں حادثات کا شکار ہوسکتی ہیں-گوگل سیلف ڈرائیونگ کار تجربوں پر مشغول ہے جس کیلئے اُسے فوری ردعمل ظاہر کرنے والا نیٹ ورک اور اس کی کوریج، گاڑیوں کو دیگر سواریوں اور شہر بھر میں نصب سنسرز سے رابطے میں مدد دینے والے عناصر درکار ہیں-اب انتظار صرف 5جی کے آنےکا ہے جس کے بعد سیلف ڈرائیونگ کار کا ایک ہجوم روڈ پر نظر آئے گا جو کہ ایک سیلف ورلڈ شو کرے گا جس سے حادثے کا امکان بہت کم ہوجائے گا-

ڈرونز:

اسی طرح فائیو جی ٹیکنالوجی ڈرونز کی صنعت کی حقیقی اہلیت کو بھی سامنے لاسکے گی، مثال کے طور پر ایک ڈرون ویڈیو کیمرے کے ساتھ کسی جگہ پرواز کرتا ہے تو 5 جی نیٹ ورک کی مدد سے اسے بہتر طریقے سے کنٹرول کرکے ایچ ڈی ویڈیو حاصل کی جاسکے گی-

ویڈیو ملٹی کاسٹنگ:

5جی کے ذریعہ K4 ویڈیو ریزولوشن کا استعمال ممکن ہو گا- k4 ریزولیشن HDریزولیشن سے چار گنا بہترہوتی ہے جس کی وجہ سے ناظرین سیل فون پر لائیو میچ آسانی سے دیکھ سکیں گے اور اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کیمرے کو خود کنٹرول کرتے ہوئے اپنی پسند کا’’ری پلے‘‘بھی دیکھ سکیں گے-لائیو میچ میںK4 ریزولیشن کے ساتھ یقیناً یہ موبائل ٹیکنالوجی میں انقلاب ہو گا-

ورچوئل ورلڈ:

5 جی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ’’ورچوئل ریئلٹی ماسک‘‘ لگا کر صارفین لائیو گیمز سے لطف اندوز ہو سکیں گے-صارفین دور دور ہونے کے باوجود آپس میں حقیقی زندگی کی طرح گیمزکھیل سکیں گے-
5جی کی دنیا انسانوں کو ٹیکنالوجی کی کئی نئی جہتوں سےمتعارف کروائے گی- اس کی آمد سے کئی طرح کی سروسز اور کاروبار سامنے آئیں گے جس سےزندگی آسان ہو جائےگی-5 جی کی آمد سے ڈیٹا کی ڈاؤن لوڈنگ سپیڈ میں اضافہ ہو جائے گا اورK4 ریزولیشن سے ڈیٹا سٹوریج بھی بڑھ جائے گا جس کی وجہ سے ہارڈ ڈسک اور سسٹم کے معیار میں بھی اضافہ کرنا ہو گا-