رشتے

رشتے

تجربہ تو یہ ہوا ہے
کہ دو سگے بھائی، سگے بھائی اور بہن، دو سگی بہنیں
یہ وہ رشتے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے جان دینے کا نہ صرف دعوی کرتے ہیں بلکہ وقت آنے پر جان نہ بھی دیں پھر بھی ساتھ ضرور کھڑے ہوجاتے ہیں
لوگ جب بھی پیار محبت کی مثال دیتے ہیں تو ان رشتوں کو ضرور یاد کرتے ہیں
جیسے دونوں میں بھائیوں جیسا پیار ہے یا پھر دونوں سہلیاں بہنوں کی طرح رہتی ہیں
ایک جیسے کپڑے ایک جیسا بناؤ سنگار ، الغرض یہ رشتے ہوتے اتفاقیہ ہیں پر ساتھ ساتھ رہنے کی وجہ سے اپنائیت اور محبت قائم ہوجاتی ہے اور تب تک قائم رہتی ہے جب تک ان کی زندگی میں ان کا اپنا شریک حیات نہیں آجاتا
پھر یہ رشتے نا چاہتے ہوئے بھی آئستہ آئستہ دور ہونا شروع ہوجاتے ہیں
بچے ہونے کے بعد بھی میل ملاب اُوپری دل سے جاری رہتا ہے اپنے اپنے گھر پہنچ کر بُرائیاں ضرور ہوتی ہیں۔
پہلے جو ہلکی پھلکی نوک جھونک بیویوں یا شوہروں کی وجہ سے آپس میں شروع ہوتی ہیں وہ بچوں کے جھگڑوں کہ وجہ سے تھوڑی شدید ہوجاتی ہے
جب ان کے بچے جوان ہوتے ہیں تب رہی سہی کسر بھی پوری ہوجاتی ہے
لیکن میرا تجربہ کہتا ہے کہ ” ایک ماں اپنے پیٹ سے کئی دشمن پیدا کرتی ہے ”
دشمنی کبھی تعلقات ختم ہونے تک محدود رہتی ہے تو کبھی قتال تک پہنچ جاتی ہے۔
جو لوگ اس بات سے انکاری ہیں وہ منافقت سے کام لیتے ہیں
مندرجہ بالا مثالوں سے اگر کسی کو اختلاف ہے تو مجھے یقین ہے کہ میری آخری بات سے ضرور متفق ہوگا کہ
بھائی بہن یا بھائی بھائی یا پھر دو بہنیں اپنے بچوں کی شادیاں آپس میں کروادیں
یقین کریں اس نئے رشتے کے ہوتے ہی پُرانا پیار پُرانے رشتے ختم ہوجاتے ہیں۔
بیٹی دینے والوں کو بیٹی دینے سے پہلے لگتا ہے میرا خون کا رشتہ ہے اپنی بھانجی یا بھتیجی کو اس گھر میں بہت خوش رکھا جائے گا ۔ جبکہ بیٹے والوں کو لگتا ہے اپنی ہی گھر میں پلی بچی ہے نہایت پیاری سلیقہ مند ہے بھائی یا بہن کہاں اس کا رشتہ ڈھونڈتے رہیں گے گھر کی بچی گھر میں ہی رہ جائے ۔
شادی کے بعد دونوں کی سوچ 90 ڈگری پر گھوم جاتی ہے
بیٹی والوں کو لگتا ہے کہ ہماری بیٹی کو ہم نے کہاں پھنسا دیا اس سے اچھا تو غیروں میں دے دیتے
بیٹے والے سوچتے ہیں جسے اپنا سمجھ کر لائے تھے اس نے تو چند دن میں رنگ دیکھا دیے
اپنے سگے رشتے بھی زہر لگنے لگتے ہیں ۔
یہاں تک کہ جو رشتے ایک دوسرے کے بنا کھانا نہیں کھاتے تھے اُن کے درمیان ہم نے موت میت شادی بیاہ تک بند ہوتے دیکھی ہیں ، یہ بھی دیکھا ہے لوگ سگی بھانجی بھتیجی کو اپنے بیٹوں سے طلاق تک دلوادیتے ہیں ، پھر کہاں گیا وہ ماں کے پیٹ سے نکلا پیار ۔؟
آپ کی نظر میں رشتے اہم ہیں جبکہ میرے حساب میں رشتوں میں لوگ اپنے اپنے ذاتی مفادات اہمیت دیتے ہیں۔Relationship
اگر آپ غریب بھائی یا بہن ہیں تب آپ کا آپ کے ہی باپ کے گھر میں پروٹوکول الگ ہوگا اور آپ امیر بھائی یا بہن ہیں تب آپ کے باپ کے گھر آپ کا پروٹوکول الگ ہوگا ۔ اکثر گھروں میں پردے قالین تبدیلی تک کا فیصلہ اُس وقت تک نہیں کیا جاتا جب تک کروڑ پتی باجی اپنے سسرال سے آکر مشورہ نہ دیدے، پھر چاہیے وہ چھوٹی باجی ہو یا بڑی بس اتنا کہا جاتا ہے باجی سے مشورہ کرکے جواب دینگے۔
اسی طرح بڑا یا چھوٹا بھائی مالی حثیت میں زیادہ ہو تب گھر کا سربراہ اُسے ہی سمجھا جاتا ہے پھر چاہیے باپ کیوں نا زندہ ہو ۔
غریب بہن بھائیوں سے تو گھر کے کسی کام میں مشورہ لینا تو دور کی بات ان سے باقائدہ باتیں چھپائے جانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے، یہاں تک کے گھر میں آئے چھوٹی بہن کے رشتے کا انہیں اُس دن معلوم ہوتا ہے جب شادی کے کارڈ چھپ کر آجائیں اور انہیں باٹنے کے لیے مزدور درکار ہوں
بحرحال یہ تو طے ہیں قریبی رشتے آپس میں رشتے کرنے سے رشتوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔۔ جیسے جیسے نسل آگے بڑھتی ہے نئی نسل کے بچوں کو یہ پتا ہی نہیں ہوتا کہ کون میںری امی کا ماموں تھا اور کون میرے ابا کی خالہ تھی ۔۔!!

نوٹ :

ہر بات سے متفق ہونا ضروری نہیں کیونکہ سب ایک جیسے نہیں ہوتے مگر اکثریت میں ایسا ہی ہو رہا ہے