مجھے اُس شخص سے اتنی محبت ہے

مجھے اُس شخص سے اتنی محبت ہے
کہ جیسے سیپ کو بارش کی بوندوں سے
کہ جیسے چاند کو سورج کی کرنوں سے
کہ جیسے تتلیوں کو پھول کی رنگت لبھاتی ہے
کہ جیسے جگنوؤں کو رات آنچل میں سجاتی ہے
کہ جیسے موج ساحل کیلئے پل پل ترستی ہے
کہ جیسے پھول کی خوشبو ہوا کے دل میں بستی ہے
کہ جیسے خشک صحرا ابر کو دل سے بلاتا ہے
کہ جیسے بھٹکا راہی منزلوں کی اور جاتا ہے
کہ جیسےرات کی رانی کو راتیں شاد کرتی ہیں
کہ جیسے شبنمی بوسوں کو کلیاں یاد کرتی ہیں
کہ جیسے خواب اور آنکھوں کا رشتہ ہے اٹل ایسے
کہ جیسے جھیل کی بانہوں میں کِھلتا ہے کنول ایسے
کہ جتنے لفظ لکھے ہیں محبت کی کتابوں میں
کہ جتنے رنگ ہوتے ہیں بہاروں میں ،گلابوں میں
کہ نیلے آسماں پر جس قدر روشن ستارے ہیں
کہ جتنے اس زمیں پر چاہتوں کے استعارے ہیں
کہ جیسے موت کے بستر پہ کچھ پل سانس کی چاہت
کہ جیسے لمسِ عیسٰی سے ملے بیمار کو راحت
کہ جیسے غم کے ماروں سے ہو غمخوار کا رشتہ
کہ جیسے دھوپ کے راہی سے سایۂ دیوار کا رشتہ
کہ جیسے بانسری کی لے پہ سانسیں گیت بُنتی ہیں
کہ جیسے وصل رُت میں دھڑکنیں سنگیت بُنتی ہیں
کہ جیسے بلبلیں پھولوں کی رُت میں گنگناتی ہیں
کہ جیسے چودھویں کے چاند کو لہریں بلاتی ہیں
سبھی کچھ کہہ دیا پھر بھی ہے دل میں ان کہی باقی
رہی اظہار کے لفظوں کی یوں ہی تشنگی باقی
محبت کے سمندر کے کنارے ہو نہیں سکتے
میرے جذبوں کے قابل استعارے ہو نہیں سکتے