مجھے تم سے محبت ھے

ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﻣﺎﮨﺮ
ﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺎ ﻣﺎﮨﺮ
ﻧﮧ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻓﮑﺮ ﺍﻓﻼﻃﻮں
ﻧﮧ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﮐﻮﺋﯽ
ﺑﮩﺖ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﺣﺴﺮﺕ ﮨﮯ
ﺑﮩﺖ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﭼﺎﮨﺖ ﮨﮯ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺭﻭ ﺑﺮﻭ ﺁﮐﺮ
ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﮞ ﺑﺎ ﻭﺿﻮ ﺁﮐﺮ
ﮔﻮﺍﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ
ﮔﮕﻦ ﮐﮯ ﺳﺐ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ
ﻓﻘﻂ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ھے
مجھے تم سے محبت ھے

سَرَکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ

سَرَکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
شبِ فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو
کہیں فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ
سوالِ وصل پر ان کو خدا کا خوف ہے اتنا
دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ
وہ بے دردی سے سَر کاٹے امیرؔ اور میں کہوں ان سے
حضور آہستہ آہستہ، جناب آہستہ آہستہ

ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ____ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ

ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ____ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺧﺪﺷﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮔُﻢ ﮨﻮﮞ

 

سُورج کی سب سے پہلی کِرن خوشنما سہی

سُورج کی سب سے پہلی کِرن خوشنما سہی
لیکن تر ی نظر کی طرح دلنشیں کہاں____؟

اس نے جلتی ہو ئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی

 

مِرے دل پہ نقش ہیں آج تک، وہ با احتیاط نوازشیں
وہ غرور و ضبط عیاں عیاں، وہ خلوصِ ربط نہاں نہاں